همس القلوب
يا عيدَ حُبٍّ أنتَ فيهِ ربيعي والعمرُ أنتَ، وكلُّ شيءٍ يلمعُ أهديتُكَ القلبَ الذي لا يهوى سواكَ نبضاً، في الضلوعِ يُسمَعُ لو يجمعُ العالمُ كلَّ ورودهِ فأنتَ أجملُ زهرةٍ تتربّعُ دعنا نعيشُ الحبَ حلماً خالداً لا ينتهي، ولهُ الفؤادُ يخشعُ
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔