نبض الروح

نبض الروح

يا رفيق الدرب في كل السنين يا ضياء الروح والقلب الأمين جاء عيد الحب يروي قصتي أنك الأغلى وحصني المتين لست أحتاج هدايا أو ورود أنت لي زهر وروض وياسمين كل يوم أنت فيه جانبي هو عيد للغرام المستكين نبضنا واحد في صدر الحياة حبنا باقٍ على مر السنين دمت لي شمسًا ونورًا ودفئًا يا ملاذ الروح والحب الدفين

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10