نبع الحنان

نبع الحنان

يا نبعَ الحبِّ في الأيامِ يروينا يا شمسَ عمرٍ تُضيءُ الدربَ تهدينا أنتِ الربيعُ إذا ما الوردُ عانقنا وأنتِ الدفءُ إذا ما البردُ يأتينا كلُّ اللغاتِ أمامَ الحُسنِ عاجزةٌ فما يوفيكِ شعرٌ أو دواوينا يا جنةَ الأرضِ يا قلباً يسعُنا دمتِ لنا ألقاً، دمتِ رياحينا

#ویلنٹائنڈےکینظمیں #شکر گزار-نرم دل 🙏💝

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10