نبع الحنان
يا نبعَ الحبِّ في الأيامِ يروينا يا شمسَ عمرٍ تُضيءُ الدربَ تهدينا أنتِ الربيعُ إذا ما الوردُ عانقنا وأنتِ الدفءُ إذا ما البردُ يأتينا كلُّ اللغاتِ أمامَ الحُسنِ عاجزةٌ فما يوفيكِ شعرٌ أو دواوينا يا جنةَ الأرضِ يا قلباً يسعُنا دمتِ لنا ألقاً، دمتِ رياحينا
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔