نبع الحنان
يا نبعَ حبٍّ لا يجفُّ ولا يغيب أنتِ الضياءُ إذا اعترى قلبي المشيب في عيدكِ الأغلى تتوهُ بيَ الجُمل يا جنةَ الدنيا.. ويا أحلى أمل أمي ومهما قلتُ فيكِ من القصيد يبقى قليلاً في مقامكِ يا وحيد فلتسلمي دوماً لنا طولَ المدى يا زهرةً فاحت عبيراً والندى
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔