نبض القلب

نبض القلب

يا عيدَ حبٍّ أنتَ فيهِ ضيائي ونبضُ قلبي، فرحتي، ودوائي الوردُ يذبلُ إن تغيبَ لحيظةً والكونُ يظلمُ دونَ نورِ سمائي أهديكَ عمري لا أبالي بالمدى فالحبُّ أنتَ، وأنتَ كلُّ رجائي في كلِّ عامٍ أنتَ لي أنشودةٌ تُتلى على وترِ الهوى بوفائي لا يومَ واحدَ يختصرُ أشواقنا فالعمرُ أجمعُهُ فدىً للقاءِ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10