نغمه‌ی عشق

نغمه‌ی عشق

روز عشق است و دلم غرق تمنای تو شد جان من مست از آن خنده‌ی زیبای تو شد جهان در نظرم باغ بهشت است کنون که سرنوشت دلم، بسته به دنیای تو شد تویی آرامش جان، مونس شب‌های دراز خوشا آن لحظه که دل، عاشق و شیدای تو شد مبارک بادت این روز پر از مهر و وفا تمام هستی من، هدیه به پاهای تو شد

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10