أنت عيدي

أنت عيدي

يا عيدَ عُمري وكلَّ الأعيادِ يا نغمةَ الحُبِّ في صوتِ الحادي جمعتُ لكَ من زهورِ الودِّ باقةً حمراءَ تحكي عن عظيمِ ودادي أنتَ الضياءُ إذا ما الكَونُ أظلَمَ وأنتَ السكنُ في روحي وفؤادي لا يكفي يومٌ لكي أروي مَحبتي فأنتَ الحياةُ وشُربي وزادي

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10