في عينيك عيدي
يا عيدَ حُبٍّ أنتَ فيهِ ربيعي يا نبضَ قَلبِي، يا ضياءَ شُموعي في مُقلتيكَ رأيتُ كُلَّ حِكايتي وأذبتُ فيكَ صبابتي وخُضوعي لا، ليسَ يوماً قد نُسمِّيهِ الهوَى فالعُمرُ قربكَ عيدُنا المَشروعُ أهديكَ روحاً لا تَمَلُّ من اللِّقَا فالحُبُّ فينا خالدٌ مَطبوعُ
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔