في عينيك عيدي

في عينيك عيدي

يا عيدَ حُبٍّ أنتَ فيهِ ربيعي يا نبضَ قَلبِي، يا ضياءَ شُموعي في مُقلتيكَ رأيتُ كُلَّ حِكايتي وأذبتُ فيكَ صبابتي وخُضوعي لا، ليسَ يوماً قد نُسمِّيهِ الهوَى فالعُمرُ قربكَ عيدُنا المَشروعُ أهديكَ روحاً لا تَمَلُّ من اللِّقَا فالحُبُّ فينا خالدٌ مَطبوعُ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10