نورُ الحياة

نورُ الحياة

أنتِ الحياةُ ونبضُ الكَوْنِ يا أمَلُ في مُقلتيكِ يَذوبُ الهَمُّ والمَلَلُ يا صانعَ المَجدِ في عزمٍ وفي دَأَبٍ أنتِ الضياءُ إذا ما أظلَمَت سُبُلُ في يومِ عيدِكِ كُلُّ الوردِ مُعتَذِرٌ فأنتِ أجمَلُ ما جادَت بهِ الدُّوَلُ نصفُ الحياةِ وكُلُّ الحُبِّ مَنبَعُهُ دُمتِ الشُّموسَ التي لا يعتريها أُفُلُ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10