آرام جانم

آرام جانم

در این جهان پر از هیاهو، تنها تویی آرام جانم چشمان توست ستاره‌ای، در آسمان بی‌کرانم هر تپش قلبم نام تو را، با عشق فریاد می‌زند بی تو بهار هم خزان است، این را بدان مهربانم روز عشق است و دلم باز، هوای روی تو دارد دست‌هایت را به من بده، که عشق معنایی دگر دارد سرخ‌ترین گل‌های باغ را، به پای تو می‌ریزم که هر لحظه با تو بودن، طعم شیرین ظفر دارد

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10