نغمه‌ی عشق

نغمه‌ی عشق

در باغِ جانم، عطرِ تو پیچیده است چشمانِ من جز روی تو، دیگر ندیده است ای همسرم، ای تکیه‌گاهِ امنِ من با تو بهاران می‌شود، این فصلِ سردِ تن روزِ عشق آمد تا بگویم باز هم تو مرهمی بر هر غم و بر هر چه درد و غم دنیای من با خنده‌ات سامان گرفت عشقِ تو در اعماقِ قلبم، جان گرفت

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10