أنتَ العيد
في عيدِ الحبِّ أهديكَ الفؤادا ونبضاً لا يرى إلاكَ زادا حياتي أنتَ، يا نوراً تجلّى وفي عينيكَ قد وجدتُ المرادا دعِ الأيامَ تشهدُ أنَّ حُبي يفوقُ الوصفَ، يعتنقُ الودادا فأنتَ العيدُ في كلِّ الثواني وأنتَ الروحُ إن سكنتْ بلادا
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔