أنت عيدي

أنت عيدي

يا مُهجةَ القلبِ يا نبضَ الشرايينِ في عيدِ حُبِّكَ أُهديكَ رياحيني أنتَ الضياءُ إذا ما العُتمةُ انتشرتْ وأنتَ وحدَكَ مَنْ بالحُبِّ يَرويني كُلُّ الفصولِ ربيعٌ في تواجُدِكُم يا أجملَ الناسِ في طبعٍ وتكوينِ دَعنا نعيشُ الهوى في كُلِّ ثانيةٍ فالعُمرُ قُربَكَ جنَّاتٌ تُلاقيني لا يُحسبُ العُمرُ بالأيامِ نعدُّها بل باللحاظِ التي فيها تُناجيني

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10