مژده‌ی بهار

مژده‌ی بهار

نسیم باد بهاری وزید بر دشت و دمن شکوفه رقص‌کنان شد به روی شاخه‌ی سمن دوباره سفره‌ی هفت‌سین و عطر سنبل و سیب رسید مژده‌ی شادی، نمانده درد و نهیب بهار آمد و نوروز باستانی شد جهان پیر ز نو، جوان و جانی شد امید و عشق و محبت رفیق راهت باد همیشه خنده و شادی، چراغ ماهت باد

#نوروزکینظمیں #بہارکینظمیں #جشن کا-امید افزا 🎊🌅

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10